جرم ہے
Jurm Hai
Poetry Text
دیکھ مت، حدِ نظر بس دیکھنا بھی جرم ہے
تیری وسعت ہے وہاں تک، سوچنا بھی جرم ہے
دائرے میں قید ہو جا، جو کہا جائے وہ کر
فکر کی چلمن سے تیرا جھانکنا بھی جرم ہے
لب نہیں آزاد تیرے اور قلم تیرا اسیر
کیوں، کہاں، کب، کیسے، کتنا بولنا بھی جرم ہے
تو ترازو تو دکھاتا ہے مگر انصاف کر
بے ایمانی سے وزن کو تولنا بھی جرم ہے
دل میں گوشہ مستحق کے واسطے پیدا تو کر
صرف اپنے لوگوں میں ہی بانٹنا بھی جرم ہے
لفظ سے ہے علم اور ہے علم پانی کی مثال
روک مت پیاسے پہ پانی، روکنا بھی جرم ہے